نئی دہلی،14؍اکتوبر(ایس او نیوز؍ایجنسی) کورونا انفیکشن کے معاملے ہندوستان میں کچھ کم ضرور ہوئے ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹھنڈ کے موسم میں ایک بار پھر مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر چودھری انل کمار نے اس سلسلے میں میڈیا کو بتایا کہ کیجریوال حکومت وبا پر قابو پانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے اور آنے والے دن مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ راجدھانی میں کووڈ معاملوں کی حقیقی تعداد کا ابھی تک پتہ نہیں ہے کیونکہ دہلی حکومت نے ٹیسٹ کی شرح کو کم کر دیا ہے جو بہت خطرناک ہے۔ کووڈ کے نئے معاملے بڑھ رہے ہیں جب کہ کووڈ اسپتالوں اور دیگر طبی سہولیات میں لگاتار کمی ہو رہی ہے۔
چودھری انل کمار نے کہا کہ دہلی کے لوگ کووڈ کی خطرناک حالت کا سامنا کر رہے ہیں اور آلودگی کے سبب زہریلی ہوا اور بھی خطرناک ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ "نیشنل سنٹر ڈیزیز کنٹرول کی پیشین گوئی ہے کہ روزانہ کووڈ کے تقریباً 15 ہزار نئے معاملے سامنے آئیں گے اور کیجریوال حکومت ایسی حالت سے نمٹنے کے لیے ابھی تیار نہیں ہے، جو گزشتہ مہینے کووڈ معاملوں کے اچانک اضافہ سے پوری طرح ظاہر ہو چکا ہے۔"
چودھری انل کمار نے کہا کہ دہلی میونسپل کارپوریشن کے ذریعہ ملی جانکاری کے مطابق کووڈ سے مرنے والوں کی تعداد موجودہ بتائی گئی تعداد سے دوگنی ہے، لیکن دہلی حکومت سچ نہیں بتا رہی۔ انھوں نے کہا کہ ماہرین متنبہ کر رہے ہیں کہ فضائی آلودگی کے بڑھنے سے کووڈ معاملوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ دہلی حکومت کووڈ وبا کے حقیقی پھیلاؤ سے ابھی تک تاریکی میں ہے اور کیجریوال 14 ہزار آر ٹی پی سی آر ٹیسٹ روزانہ کی صلاحیت کے تحت عوام کے ٹیسٹ بھی پورے نہیں کر رہے ہیں۔